CLICK HERE FOR VARIOUS NEW JOBS 
CLICK HERE FOR VARIOUS EDUCATIONAL NEWS 
CLICK HERE FOR NEW SCHOLARSHIPS 
CLICK HERE FOR ADMISSION NOTICES 
Click And Follow On Google+ To Get Updates
Please Wait 10 Seconds... OR You CanSkip

ADMISSION NOTICES
Scholarships

Scholarship-300x291

BUDGET 2014-15
budget_2014-2015
New Date Sheets
VU SOLVED ASSIGNMENTS
Recent Posts
output_ehhkRg

Pakistan Budget 2015-16 Important Points and Detail

Pakistan Budget 2015-16 Important Points and Detail

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار مالی سال 16-2015  کا بجٹ پیش کررہے ہیں اور آئندہ مالی سال کے لئے بجٹ میں دفاع کے لئے 780 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ملکی شکستہ معیشت کو بحالی کی جانب لے جایا جارہا ہے اور رواں سال ترقی کی اوسطا شرح تین فیصد رہی، اس سال ترقی کی شرح کا ہدف 5.3 فیصد رکھا گیا تھا جو دھرنوں، احتجاج اورعالمی مارکیٹ میں تیل کی مصنوعات میں کمی کے باعث متعلقہ شعبوں کے متاثر ہونے سے اہداف حاصل نہیں کئے جاسکتے جب کہ شرح نمو 4.24 فیصد رہی اور اس سال مہنگائی کی شرح 4.6 فیصد ریکارڈ کی گئی جو 11 سال کی کم ترین سطح ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ جون 2013 میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر صرف 6 ارب ڈالررہ گئے تھے جو اب بڑھ کر 17 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جب کہ  رواں برس فی کس آمدنی 1512 ڈالرہوگئی، ترسیلات زررواں مالی سال پہلے10 ماہ میں 16 فیصد اضافے کے ساتھ 14.97 ارب ڈالرہوگئی اور رواں مالی سال جولائی سے اپریل 34.09 ارب ڈالر درآمدات رہیں۔

وفاقی وزیرخزانہ کے مطابق بے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دفاع کے لئے 780 ارب روپے،سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے 1513، توانائی کے شعبے کے لئے 248 ارب روپے رکھے گئے ہیں، بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 102 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس سے 53 لاکھ خاندانوں کی مدد کی جائے گی جب کہ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے 20 ارب روپے،بیت المال کے لئے 4 ارب روپے، ہائیڈروپاور پراجیکٹ داسو کے پہلے مرحلے میں 52 ارب مختص کئے گئے ہیں، نیلم جہلم منصوبے کے لیے11 ارب رکھے گئے ہیں،پانی کے منصوبے کے لئے 31 ارب روپے، زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لئے 7 ارب روپے اور آئی ڈی پیز کی بحالی کے لئے 100 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لئے ساڑھے 71 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ریلوے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے لئے 37 ارب روپے رکھے گئے ہیں جب کہ ریلوے کے لئے بجٹ میں مجموعی رقم 78 ارب روپے رکھی گئی ہے، کراچی میں گرین لائن منصوبے کے لئے 16 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور یہ منصوبہ دسمبر 2016 میں مکمل کیا جائے گا۔

وفاقی وزیرخزانہ کے مطابق وزیراعظم کی خصوصی اسکیموں کے لیے 20ارب روپے رکھے گئے ہیں جب کہ وزیر اعظم یوتھ بزنس لون اسکیم کے لئے شرح سود 8 فیصد سے کم کرکے 6 فیصد کردی گئی، دوردرازعلاقوں کو باقی ملک سے فائبر آپٹک لنک سے جوڑنے کے لئے 2.8 ارب روپے کی سرمایاکاری کی جائے گی، ٹیکسٹائل پالیسی 19-2014 کے لیے 64 ارب 15 کروڑ کا مالیاتی پیکج دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیرخزانہ کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال بجٹ میں کم سے کم تنخواہ 12 ہزار سے بڑھا کر 13 ہزار روپے کردی گئی جب کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ساڑے سات فیصد اور پنشن میں بھی ساڑھے 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، کے ای ایس سی کو 20 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی،  یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی سبسڈی کے لئے 7 ارب روپے،  رمضان پیکج کے لئے 3 ارب روپے، گلگت بلتستان میں گندم اور نمک کی فروخت پر سبسڈی ختم کردی گئی۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ مالی سال 2015-16ء کا بجٹ پیش کرنے پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت سنبھالی تو کہا گیا کہ پاکستان 2014ء میں ڈیفالٹ کر جائے گا تاہم معاشی پنڈتوں کی پیشگوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ معیشت کی ڈوبتی کشتی محفوظ کنارے پر پہنچ چکی ہے۔ حکومت نے شکستہ معیشت کو بحالی کی جانب گامزن کر دیا ہے۔ عالمی ادارے پاکستانی معیشت کے درست سمت میں جانے کی تعریف کر رہے ہیں۔ سٹیںڈرڈ اینڈ پووورز نے پاکستانی معیشت کو مثبت قرار دیا ہے۔ 2050ء میں پاکستان دنیا کی اٹھارویں بڑی معیشت ہوگا۔ اقتصادی راہداری منصوبہ گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔ انشا اللہ پاک چائنا کوریڈور پاکستان کی تقدیر بل دے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مالی سال 2014ء میں سیاسی احتجاج اور سیلاب کی وجہ سے اہداف حاصل نہیں ہوئے۔ اہداف حاصل کرنے کیلئے پالیسیاں تشکیل دیں۔ رواں سال ترقی کی شرح 5 فیصد تھی جو حاصل نہیں کی جا سکی۔ رواں مالی سال اقتصادی ترقی کی شرح 4.24 رہی۔ بجٹ کا مجموعی خسارہ 1328 ارب روپے ہے جو جی ڈی پی کا 4.3 فیصد ہوگا۔ شرح ترقی کا ہدف اگلے سال 5۔5 فیصد ہوگا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملکی معیشت مضبوط اور اتار چڑھاؤ سے محفوظ ہو چکی ہے۔ افراط زر کی شرح گیارہ سال کی کم ترین شرح پر آ گئی ہے۔ حکومت نے ایک ارب ڈالرز کے سکوک بانڈز جاری کئے۔ سٹاک ایکسچینج میں بھی استحکام آیا ہے۔ نجکاری سے 50 ارب روپے کی آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالرز ہو چکے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو 19 ارب ڈالرز تک لے جانے کا تہیہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ بینظر انکم سپورٹ فنڈ کیلئے رقم 97 ارب سے بڑھا کر 102 ارب روپے کر دی گئی ہے۔ انکم سپورٹ پروگرام سے 53 لاکھ خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ پاکستان بیت المال کا بجٹ 2 ارب سے بڑھا کر 4 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دور دراز علاقوں کو آپٹیک فائبر سے منسلک کرنے کے لئے 2 ارب 80 کروڑ رکھے گئے ہیں۔ بجٹ تقریر کرتے انہوں نے بتایا کہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 1513 ارب روپے رکھا گیا ہے جس میں توانائی کے شعبے کے لئے سب سے زیادہ رقوم مختص کی ہے۔ توانائی منصوبوں کی تکمیل کیلئے 248 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ 2017ء تک ملک سے لوڈشیڈنگ تقریبا ختم کر دیں گے۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے پہلے حصے کے لئے 6 ارب روپے، نیلم جہلم پراجیکٹ کے لئے 11 ارب روپے، داسو بجلی گھر کے لئے 52 ارب روپے، گدو پاور پروجیکٹ کی اپ گریڈیشن کے لئے 5 ارب روپے اور بھاشا ڈیم کے لئے مجموعی طور پر 21 ارب روپے رکھے ہیں۔ جبکہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے لئے 185 ارب رکھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے لئے گرین لائن منصوبہ شروع کر رہے ہیں۔ گرین لائن بس سے تین لاکھ لوگ فائدہ اٹھائیں گے۔ اس منصوبے پر 16 ارب خرچ کریں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ریلوے کی ترقی بھی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ ریلوے کی مدد کے لئے 78 ارب فراہم کریں گے۔ ریلوے کو انجنوں اور بوگیوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اس کیلئے 170 نئے انجن خریدے جائیں گے جبکہ 100 کی مرمت ہوگی۔ خان پور اور لودھراں سیکشن پر پٹٹری کی بحالی کا کام جاری ہے۔ لودھراں اور خان پور کے درمیان مرکزی کنٹرول سنٹر بنایا جائے گا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ دفاعی بجٹ میں گیارہ فیصد اضافہ کرکے 780 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اندورنی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ فاٹا متاثرین کی بحالی کیلئے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی قرضہ جات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ کسانوں کو ایک لاکھ تک کے قرضے فراہم کریں گے جبکہ سولر ٹیوب ویلز لگانے والے کسانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کی جائے گی۔ اگلے سال کسانوں کو 600 ارب روپے کے قرضے ملیں گے۔ ٹیکسٹائل شعبے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 2019ء تک ٹیکسٹائل شعبے کیلئے 64 ارب 15 کروڑ روپے منظور کر لئے گئے ہیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کی مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی صفر رہے گی۔ برآمدات کے فروغ کیلئے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 3104 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ برآمدی قرضوں پر سود کی شرح کم کرکے 4.5 فیصد کر دی گئی ہے۔ طویل المدت قرضوں پر سود کی شرح کم کرکے 6 فیصد کی جا رہی ہے۔ مختلف اقسام کے موبائل فونز پر ٹیکس دوگنا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم انٹرن شپ پروگرام جاری رکھا جائے گا۔ اگلے سال سکیم کے تحت 50 ہزار نوجوانوں کو انٹرن شپ دی جائیگی۔ وزیراعظم یوتھ سکل پروگرام کا دائرہ کار دینی مدارس اور قیدیوں تک پھیلایا جائے گا۔ وزیراعظم یوتھ سکیم سے اب تک 20 ہزار نوجوان مستفید ہو چکے ہیں۔ –

 

Leave a Reply

ALL NEW RESULTS
Educational News

Updated Educational News

Categories
POSTS BY DATE